نئی دہلی:12/مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جسٹس کرن کے وکیل میتھیو نیدو مپارا نے سپریم کورٹ سے جسٹس کرنن کی گرفتاری کے حکم پرروک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی صدارت والی بنچ سے انہوں نے کہا کہ عدالت کی توہین کے قانون میں یہ تجویز ہے کہ سزا ملنے کے بعد بھی ملزم کو معافی مانگنے کا حق ہے،ہم معافی مانگنا چاہ رہے ہیں، لیکن عدالت کی رجسٹری ہماری درخواست کو قبول نہیں کر رہا ہے۔جسٹس کرن کو کبھی بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس جے ایس کھیہر نے کہا کہ ہم میں سے سات ججوں نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے،آپ صبح، دوپہر اور شام کو چلے آتے ہیں۔نیدو مپارا سے سپریم کورٹ نے کہا کہ جب جج دستیاب ہوں گے، تب اس پر سماعت ہوگی۔غورطلب ہے کہ جسٹس کرنن کی جانب سے کل بھی وکیل میتھیو نیدو مپارا نے تین طلاق کے معاملے کی سماعت کر رہی پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ آپ کے ڈر سے سپریم کورٹ رجسٹری کا کوئی بھی افسر درخواست کو قبول نہیں کررہا ہے۔